صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ السَّادَۃِ الْمَیامِینِ وَٲَسْٲَ لُکَ اَللّٰھُمَّ حاجَتِیَ الَّتِی إنْ
کرنے والے محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) پر رحمت نازل فرما جو برکت والے سردار ہیں اورمیں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے اللہ اپنی اس حاجت کا
ٲَعْطَیْتَنِیھا لَمْ یَضُرَّنِی مَا مَنَعْتَنِی، وَ إنْ مَنَعْتَنِیھا لَمْ یَنْفَعْنِی مَا ٲَعْطَیْتَنِی، ٲَسْٲَ لُکَ
کہ اگر تو وہ عطا کردے تو جو کچھ تو نے نہیں دیا اس سے مجھے نقصان نہیں اور اگر تو وہ عطا نہ کرے تو جو تونے دیا اس سے مجھے کوئی نفع
فَکاکَ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ وَحْدَکَ لا شَرِیکَ لَکَ لَکَ الْمُلْکُ
نہیں سوال کرتا ہوں کہ میری گردن جہنم سے آزاد کردے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں تیرے لئے حکومت
وَلَکَ الْحَمْدُ وَٲَنْتَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ،
تیرے لئے حمد ہے اور تو ہر ایک چیز پر قدرت رکھتا ہے اے میرے رب اے میرے رب اے میرے رب۔
حضرت امام حسین -بار بار یارب یارب کہتے رہے جب کہ آپکے اردگرد کھڑے لوگ آپکی دعا سنتے ہوئے آمین کہتے رہے یہاں تک کہ آپکے ساتھ ساتھ ان سب کی رونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں ،غروب آفتاب تک یہی حالت رہی پھر سب لوگ مشعر الحرام روانہ ہو گئے۔
مؤلف کہتے ہیں کہ بلدالامین میں کفعمی نے امام حسین -کی دعائے عرفہ اس قدر نقل کی ہے جو اوپر ذکر ہوئی ہے اور زادالمعاد میں علامہ مجلسی نے بھی کفعمی کی روایت کے مطابق یہ دعا یہیں تک ذکر کی ہے ،لیکن ابن طاؤس نے یارب یارب کے بعد یہ اضافی کلمات بھی تحریر فرمائے ہیں۔
إلھِی ٲَنَا الْفَقِیرُ فِی غِنایَ فَکَیْفَ لاَ ٲَکُونُ فَقِیراً فِی فَقْرِی إلھِی ٲَنَا الْجاھِلُ فِی
میرے اللہ میں اپنی تونگری میں بھی محتاج ہوں تو اپنے فقر کی حالت میں کیوں نہ محتاج ہوں گا میرے اللہ میں علم رکھتے ہوئے
عِلْمِی فَکَیْفَ لاَ ٲَکُونُ جَھُولاً فِی جَھْلِی إلھِی إنَّ اخْتِلافَ تَدْبِیرِکَ وَسُرْعَۃَ طَوائِ
بھی جاہل ہوں تو اپنی جہالت میں کیوں نہ جاہل ہوں گا اے اللہ بے شک تیری تدبیر کے تغیر و تبدل اور تیری جلد وارد ہونے والی
مَقادِیرِکَ مَنَعا عِبادَکَ الْعارِفِینَ بِکَ عَنِ السُّکُونِ إلی عَطائٍ وَالْیَٲْسِ مِنْکَ فِی بَلائٍ
تقدیر نے تیری معرفت رکھنے والے بندوں کو ہے تیری عطا کی امید نہ رکھنے اور مشکل کے وقت تجھ سے مایوس ہو جانے سے روکا ہوا ہے
إلھِی مِنِّی مَا یَلِیقُ بِلُؤْمِی وَمِنْکَ مَا یَلِیقُ بِکَرَمِکَ ۔ إلھِی وَصَفْتَ
میرے اللہ میں نے وہ کیا جو میری پستی کا تقاضہ ہے اور تو وہ کرے گا جو تیری بڑائی کے لائق ہے میرے اللہ میری کمزوری سے پہلے
نَفْسَکَ بِاللُّطْفِ وَالرَّٲْفَۃِ لِی قَبْلَ وُجُودِ ضَعْفِی ٲَفَتَمْنَعُنِی مِنْھُما بَعْدَ وُجُودِ ضَعْفِی
ہی تیری ذات لطف و کرم کے اوصاف رکھتی ہے تو کیا میری کمزوری کے بعد مجھ سے تو یہ مہربانیاں روک دے گا
إلھِی إنْ ظَھَرَتِ الْمَحاسِنُ مِنِّی فَبِفَضْلِکَ وَلَکَ الْمِنَّۃُ عَلَیَّ وَ إنْ ظَھَرَتِ الْمَساوِیَُ
میرے اللہ اگر مجھ سے نیکیاں ظاہر ہوئیں تو یہ تیرا فضل ہے اور مجھ پر یہ تیرا احسان ہے اور اگر مجھ سے برائیوں کا ظہور ہوا ہے تو یہ تیرا
مِنِّی فَبِعَدْلِکَ وَلَکَ الْحُجَّۃُ عَلَیَّ۔ إلھِی کَیْفَ تَکِلُنِی وَقَدْ تَکَفَّلْتَ لِی وَکَیْفَ ٲُضامُ
عدل ہے اور مجھ پر تیری حجت قائم ہو گئی ہے میرے اللہ کیسے تو مجھ کو چھوڑ دے گا جب کہ تو میرا کفیل ہے کیونکر میں روند دیا جاؤں
وَٲَنْتَ النَّاصِرُلِی ٲَمْ کَیْفَ ٲَخِیبُ وَٲَنْتَ الْحَفِیُّ بِی ھا ٲَنَا ٲَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِفَقْرِی إلَیْکَ
جب کہ تو میرا مددگار ہے یا کیسے بے آس ہوجاؤں جب کہ تو مجھ پر مہربان ہے اب میں تیری درگاہ میں اپنے فقر کے ساتھ آیا ہوں
وَکَیْفَ ٲَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِمَا ھُوَ مَحالٌ ٲَنْ یَصِلَ إلَیْکَ ٲَمْ کَیْفَ ٲَشْکُو إلَیْکَ حالِی
اور کسطرح تجھے اپنا وسیلہ بناؤں جب کہ یہ ناممکن ہے کہ کوئی تجھ تک پہنچ پائے یا کیونکر تجھ سے اپنے حالات کی شکایت کروں جب کہ
وَھُوَ لاَ یَخْفیٰ عَلَیْکَ ٲَمْ کَیْفَ ٲُتَرْجِمُ بِمَقالِی وَھُوَ مِنْکَ بَرَزٌ إلَیْکَ ٲَمْ کَیْفَ تُخَیِّبُ
وہ تجھ سے پوشیدہ نہیں ہیں یا کسطرح اپنی زبان سے ان کی تشریح کروں جب کہ وہ تیری طرف سے اور تجھ پر عیاں ہیں یا کیونکر میری
آمالِی وَھِیَ قَدْ وَفَدَتْ إلَیْکَ ٲَمْ کَیْفَ لاَ تُحْسِنُ ٲَحْوالِی وَبِکَ
آرزوئیں ناکام رہیں گی جب کہ یہ تیرے جناب میں پیش کی جا چکی ہیں یا کیونکر میرے حالات بہتر نہ ہونگے جب کہ میں تیری وجہ
قامَتْ إلھِی مَا ٲَلْطَفَکَ بِی مَعَ عَظِیمِ جَھْلِی وَمَا ٲَرْحَمَکَ بِی مَعَ قَبِیحِ فِعْلِی
سے قائم ہوں میرے اللہ تیرا کتنا لطف ہے مجھ پر جبکہ میں بڑا ہی نادان ہوں اور تو کس قدر مہربان ہے مجھ پر جبکہ میں خطاکار ہوں
إلھِی مَا ٲَقْرَبَکَ مِنِّی وَٲَبْعَدَنِی عَنْکَ وَمَا ٲَرْٲَ فَکَ بِی فَمَا الَّذِی یَحْجُبُنِی عَنْکَ
میرے اللہ تو کتنا نزدیک ہے مجھ سے جبکہ میں تجھ سے بہت دور ہوں اور کتنا مہربان ہے تو مجھ پر پھر کس نے مجھے تجھ سے ہٹا دیا ہے
إلھِی عَلِمْتُ بِاِخْتِلافِ الْآثارِ وَتَنَقُّلاتِ الْآطْوارِ، ٲَنَّ مُرادَکَ مِنِّی ٲَنْ تَتَعَرَّفَ إلَیَّ
میرے اللہ دنیا کے حالات کی تبدیلیوں اور طریقوں کے تغیرات کے ذریعے میں جان گیا کہ تیری مراد یہ ہے کہ تو ہر چیز سے مجھے اپنی
فِی کُلِّ شَیْئٍ حَتَّی لا ٲَجْھَلَکَ فِی شَیْئٍ۔ إلھِی کُلَّما ٲَخْرَسَنِی لُؤْمِی ٲَنْطَقَنِی
شناسائی کرائے تاکہ میں کسی چیز کے ضمن میں تیری قدرت سے ناواقف نہ رہوں میرے اللہ جب میری پستی مجھے گنگ کر دیتی ہے تو
کَرَمُکَ وَکُلَّما آیَسَتْنِی ٲَوْصافِی ٲَطْمَعَتْنِی مِنَنُکَ ۔ إلھِی
تیرا کرم مجھے گویا کر دیتا ہے جب بھی میرے برے اوصاف مجھے مایوس کرتے ہیں تیرے احسان مجھے حوصلہ دیتے ہیں میرے اللہ
مَنْ کانَتْ مَحاسِنُہُ مَساوِیَ فَکَیْفَ لاَ تَکُونُ مَساویُہُ مَساوِیَ وَمَنْ کانَتْ حَقائِقُہُ
جس شخص کی خوبیاں بھی برائیاں ہوں تو اس کی برائیاں کیوں نہ برائیاں شمار کی جائیں گی اور جس شخص کی حقیقت ہی محض
دَعاوِیَ فَکَیْفَ لاَ تَکُونُ دَعاواہُ دَعاوِیَ إلھِی حُکْمُکَ النَّافِذُ وَمَشِیئَتُکَ الْقاھِرَۃُ
کھوکھلی باتیں ہوں تو اس کی خالی خولی باتیں کیوں نہ محض باتیں تصور کی جائیں گی میرے اللہ تیرا حکم جاری ہے اور تیری مرضی قاہر
لَمْ یَتْرُکا لِذِی مَقالٍ مَقالاً، وَلاَ لِذِی حالٍ حالاً ۔ إلھِی کَمْ مِنْ طاعَۃٍ
و غالب ہے کہ ان کے مقابل بولنے والا بول نہیں سکتا اور نہ کوئی صاحب حال کچھ کرسکتا ہے میرے اللہ کتنی ہی بار میں نے اطاعت
بَنَیْتُھا، وَحالَۃٍ شَیَّدْتُھا ھَدَمَ اعْتِمادِی عَلَیْھا عَدْلُکَ، بَلْ ٲَقالَنِی مِنْھا
کرتے ہوئے عبادت کی شکل بنائی ہے مگر تیرے عدل کے خوف سے اس پر میرا بھروسہ نہ رہا بلکہ وہ تیرے فضل سے میری بخشش کا
فَضْلُکَ۔ إلھِی إنَّکَ تَعْلَمُ ٲَ نِّی وَ إنْ لَمْ تَدُمِ الطَّاعَۃُ مِنِّی فِعْلاً جَزْماً فَقَدْ دامَتْ
ذریعہ بنی میرے اللہ بے شک تو جانتا ہے اگرچہ میں عبادت میں مستقلاً مشغول نہیں ہوں تو بھی تجھ سے میری محبت
13 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 472375